ایسا ہوا تم بِن من سونا ہم برسوں نہیں سوئے
جب جب بھیگا موسم دل کا نینا پھوٹ کے روئے
خوشیوں کے جب پھول چنے تو پائے اتنے کانٹے
کھول کے دل دکھلایا جس کو اس نے تیر چبھوئے
ٹوٹ گئی ہر ڈالی جس پر ہم نے جھولے ڈالے
ڈھونڈ تھکے ہم اس دنیا میں عشق و وفا کے بندے
بھٹک رہے ہیں، اب راہوں میں اپنے آپ میں کھوئے
اتنی چوٹیں کھائیں ہم نے جیون کی راہوں میں
جہاں ملیں دو پیار کی بوندیں، زخم پرانے دھوئے
راز لگی ہیں سو سو گانٹھیں یادوں کے دھاگوں میں
پیار کے سوکھے پھول پھر ان میں کیسے کوئی پروئے
رازدان راز
No comments:
Post a Comment