اپنی اپنی ہے ضرورت بے وفا کوئی نہیں
کون پھینکے کس پہ پتھر بے خطا کوئی نہیں
زہر سے دہشت کے جو لیتا ہے معصوموں کی جاں
دھرم اس کا کچھ نہیں، اس کا خدا کوئی نہیں
حالِ دنیا کیا کہیں سہمے ہوئے بیٹھے ہیں سب
کب، کہاں کس موڑ پر مل جائے غم کس کو خبر
کس خوشی سے غم جڑا ہے جانتا کوئی نہیں
زندگی جب تک ہے سب اک دوسرے سے ہیں الگ
خاک میں مل کر کسی سے بھی جدا کوئی نہیں
مکڑیوں کو رازؔ جالا بُننا سکھلاتا ہے کون
خود پرستی کے فریبوں سے بچا کوئی نہیں
رازدان راز
No comments:
Post a Comment