Friday, 11 December 2015

اپنی اپنی ہے ضرورت بے وفا کوئی نہیں

اپنی اپنی ہے ضرورت بے وفا کوئی نہیں
کون پھینکے کس پہ پتھر بے خطا کوئی نہیں
زہر سے دہشت کے جو لیتا ہے معصوموں کی جاں
دھرم اس کا کچھ نہیں، اس کا خدا کوئی نہیں
حالِ دنیا کیا کہیں سہمے ہوئے بیٹھے ہیں سب
سب کو سب معلوم ہے، پر بولتا کوئی نہیں
کب، کہاں کس موڑ پر مل جائے غم کس کو خبر
کس خوشی سے غم جڑا ہے جانتا کوئی نہیں
زندگی جب تک ہے سب اک دوسرے سے ہیں الگ
خاک میں مل کر کسی سے بھی جدا کوئی نہیں
مکڑیوں کو رازؔ جالا بُننا سکھلاتا ہے کون
خود پرستی کے فریبوں سے بچا کوئی نہیں

رازدان راز

No comments:

Post a Comment