Friday, 11 December 2015

جو چاندنی میں نہائے بدن وہ جل کے رہے

جو چاندنی میں نہائے بدن وہ جل کے رہے
خوشی کی حد سے جو گزرے، غموں میں ڈھل کے رہے
یہ سچ ہے موت کو اپنی بلایا خود ہم نے
مگر بچے ہیں کہاں وہ بھی جو سنبھل کے رہے
فلک نے ایسی ڈھلانیں بنا کے رکھی ہیں
جو آسمانوں پہ چلتے تھے وہ پھسل کے رہے
تمام شام کیا ضبط ہم نے کچھ نہ کہا
مگر دبائے تھے جو بول وہ نکل کے رہے
بدل نہ پائے کبھی دوستوں کی فطرت کو
گو دشمنوں کا تو دل رازؔ ہم بدل کے رہے

رازدان راز

No comments:

Post a Comment