جو چاندنی میں نہائے بدن وہ جل کے رہے
خوشی کی حد سے جو گزرے، غموں میں ڈھل کے رہے
یہ سچ ہے موت کو اپنی بلایا خود ہم نے
مگر بچے ہیں کہاں وہ بھی جو سنبھل کے رہے
فلک نے ایسی ڈھلانیں بنا کے رکھی ہیں
تمام شام کیا ضبط ہم نے کچھ نہ کہا
مگر دبائے تھے جو بول وہ نکل کے رہے
بدل نہ پائے کبھی دوستوں کی فطرت کو
گو دشمنوں کا تو دل رازؔ ہم بدل کے رہے
رازدان راز
No comments:
Post a Comment