Tuesday, 8 December 2015

گئے دنوں کا تصور لہو رلاتا ہے

گئے دنوں کا تصور لہو رلاتا ہے
مِرا نصیب مجھے رات بھر جگاتا ہے
مرادِ فن وہی عالی مراد پاتا ہے 
جو حرف حرف کو دل کا لہو پلاتا ہے
جو ظاہراً نہیں آیا ہے ایک مدت سے 
وہ روز یاد کے آنگن میں آتا جاتا ہے
ہوائےعشق سے اک بار جو گزر جائے 
تمام عمر ہواؤں سے خوف کھاتا ہے
تمہاری یاد مِرے ساتھ ساتھ چلتی ہے 
تمہارا عکس مجھے راستہ دکھاتا ہے
اسے کہو کہ وہ نانِ جویں کی فکر کرے 
فلک سے چاند ستارے جو توڑ لاتا ہے
خزاں کی شام میں امید کا پیمبر دل 
نویدِ صبح بہاراں سنائے جاتا ہے
طلوعِ صبح کا منظر ہے سب کی آنکھوں میں 
اس اعتماد سے کوئی دِیا بجھاتا ہے
کبھی کبھی تو مِرا دَم نکلنے لگتا ہے 
کبھی کبھی وہ مجھے اتنا یاد آتا ہے
اسے بتائے کوئی، وقت نے ٹھہرنا نہیں 
تمہاری یاد کا موسم گزرتا جاتا ہے

افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment