Tuesday, 8 December 2015

جو مدعی تھا کبھی ساتھ جینے مرنے کا

جو مدعی تھا کبھی ساتھ جینے مرنے کا
اب اس کے پاس نہیں وقت بات کرنے کا
ہم ایک بار نہیں بار بار مارے گئے
ہمیں جنون چڑھا تھا کسی پہ مرنے کا
وہ پہلے دل میں اترنے کے فن میں طاق ہوا
پھر اس نے سیکھا ہنر بات سے مکرنے کا
جو گفتگو کے بہانے تلاش کرتا تھا
جواز ڈھونڈتا رہتا ہے اب بگڑنے کا
جسے گوارا نہیں ہوں میں بزمِِ ہستی میں
وہ انتظار کرے چار دن گزرنے کا
یہ عشق و عاشقی مطلق ہمارے بس میں نہیں
بس اک وسیلہ ہے مٹی خراب کرنے کا

افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment