جو مدعی تھا کبھی ساتھ جینے مرنے کا
اب اس کے پاس نہیں وقت بات کرنے کا
ہم ایک بار نہیں بار بار مارے گئے
ہمیں جنون چڑھا تھا کسی پہ مرنے کا
وہ پہلے دل میں اترنے کے فن میں طاق ہوا
جو گفتگو کے بہانے تلاش کرتا تھا
جواز ڈھونڈتا رہتا ہے اب بگڑنے کا
جسے گوارا نہیں ہوں میں بزمِِ ہستی میں
وہ انتظار کرے چار دن گزرنے کا
یہ عشق و عاشقی مطلق ہمارے بس میں نہیں
بس اک وسیلہ ہے مٹی خراب کرنے کا
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment