سوزِ فن سے آگ بھڑکانے کا موسم آ گیا
سازِ دل لاؤ، غزل گانے کا موسم آ گیا
اب ضروری ہو گئی آرائشِ حسن و جمال
آئینے کے سامنے جانے کا موسم آ گیا
گھر سے وہ باہر نہیں جاتے دوپٹے کے بغیر
نام ساقی کا لیا تو تشنگی بھی جاگ اٹھی
اب یقیناً جام چھلکانے کا موسم آ گیا
شاخِ گل پر تتلیوں کا رقص جاری ہو گیا
پھر دلِ ناداں کو سمجھانے کا موسم آ گیا
دیکھ کر جشنِ بہاراں دل بھکاری ہو گیا
خواہشوں کے ہاتھ پھیلانے کا موسم آ گیا
پیار داناؔ کر لیا تو باندھ لے سر سے کفن
سنگدل دنیا سے ٹکرانے کا موسم آ گیا
عباس دانا
No comments:
Post a Comment