Saturday, 12 December 2015

مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے

مِرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے
کہ میرے دوست کا دشمن مِری امان میں ہے
وہ خوش نصیب پرندہ ہے جو اڑان میں ہے
کہ تیر نکلا نہیں ہے ابھی کمان میں ہے
تمہارا نام لیا تھا کبھی محبت میں
مٹھاس اس کی ابھی تک مِری زبان میں ہے
تم آ کے لوٹ گئے پھر بھی ہو یہیں موجود
تمہارے جسم کی خوشبو مِرے مکان میں ہے
کہاں ملے گا حسینوں کو دورِ حاضر میں
وہ شاہزادہ جو پریوں کی داستان میں ہے
تجھے جو زخم دے تُو اس کو پھول دے داناؔ
یہی اصولِ وفا تیرے خاندان میں ہے

عباس دانا

No comments:

Post a Comment