Saturday, 12 December 2015

اپنے خوابوں میں تجھے جس نے کبھی دیکھا ہو گا

اپنے خوابوں میں تجھے جس نے کبھی دیکھا ہو گا
آنکھ کھلتے ہی تجھے ڈھونڈنے نکلا ہو گا
زندگی صرف تیرے نام سے منسوب رہے
جانے کتنے ہی دماغوں نے یہ سوچا ہو گا
دوست! ہم اس کو ہی پیغامِ کرم سمجھیں گے
تیری فرقت کا جو جلتا ہوا لمحہ ہو گا
دامنِ زیست میں کچھ بھی نہیں ہے باقی
موت آئی تو یقیناً اسے دھوکا ہو گا
روشنی جس سے اتر آئی لہو میں میرے
اے مسیحا! وہ میرا زخمِ تمنا ہو گا

عباس دانا

No comments:

Post a Comment