بہار آئے گی گلشن میں تو دار و گیر بھی ہو گی
جہاں اہلِ جنوں ہوں گے وہاں زنجیر بھی ہو گی
اسی امید پر ہم گامزن ہیں راہِ منزل میں
یہاں ظلمت سہی، آگے کہیں تنویر بھی ہو گی
اگر رہنا ہے گلشن میں تو اپنے آشیانے کی
یہی تو سوچ کر ہم ان کی محفل سے چلے آئے
ہماری خامشی کی کچھ نہ کچھ تفسیر بھی ہو گی
یہ ہم بھی جانتے ہیں زندگی اک خواب ہے افسرؔ
مگر اس خواب کی آخر کوئی تعبیر بھی ہو گی
افسر ماہ پوری
No comments:
Post a Comment