Monday, 7 December 2015

میرے لیے ساحل کا نظارا بھی بہت ہے

میرے لیے ساحل کا نظارا بھی بہت ہے
گرداب میں تنکے کا سہارا بھی بہت ہے
دمساز ملا کوئی نہ صحرائے جنوں میں
ڈھونڈا بھی بہت ہم نے، پکارا بھی بہت ہے
اپنی روشِ لطف پہ کچھ وہ بھی مُصر ہیں
کچھ تلخئ غم ہم کو گوارا بھی بہت ہے
انجامِ وفا دیکھ لیں کچھ اور بھی جی کے
سنتے ہیں، خیال ان کو ہمارا بھی بہت ہے
کچھ راس بھی آتی نہیں افسرؔ کو مسرت
کچھ یہ کہ وہ حالات کا مارا بھی بہت ہے

افسر ماہ پوری

No comments:

Post a Comment