محفل میں آ گیا ہوں دیوانہ وار میں بھی
بادہ کشی کو ساقی ہوں بے قرار میں بھی
یکساں تِری نظر میں سب کیوں نہیں ہیں ساقی
کھونے لگا ہوں تجھ پر اب اعتبار میں بھی
لا علم زندگی تھی سنجیدگی سے میری
دل ان کے پاس بھی ہے، دل میرے پاس بھی ہے
بے چین ہوں گے وہ بھی، ہوں بے قرار میں بھی
رخصت کے وقت وہ بھی آنسو نہ روک پائے
جاتے ہی ان کے رویا زار و قطار میں بھی
مانا کہ گل نہیں ہوں، پتا ہوں سیدھا سادہ
رکھتا ہوں اپنے دل میں شوقِ بہار میں بھی
خالق خدا ہے بے شک، عالم مِرے لیے ہے
مخلوق ہوں، مگر ہوں با اختیار میں بھی
گرتے رہے مسلسل، چوٹیں ہزار کھائیں
صد شکر ہو گیا ہوں اب شہہ سوار میں بھی
احساس ہار کا پھِر جاویدؔ مار دیتا
کیا اختیار کرتا راہِ فرار میں بھی
جاوید جمیل
No comments:
Post a Comment