ہمارے اپنے بھی ہم سے غرور بن کے ملے
جو ہم نوالہ تھے، وہ بھی حضور بن کے ملے
اب انتظار تِرا ختم، آ گئی ہے قضا
خدا کرے کہ تُو جنت میں حور بن کے ملے
قصوروار بنا ڈالا، بے قصور تھے ہم
غنائیت نے بدل ڈالی منطقِ احساس
کہ لمحے غم کے بھی ہم سے سرور بن کے ملے
بدل گئی ہیں اچانک زمانے کی قدریں
جو با شعور تھے وہ بے شعور بن کے ملے
شراب چکھنے کی رکھتے ہیں آرزو ہم بھی
مگر شراب، شرابِ طہور بن کے ملے
خطا خود اس کی ہے دنیا میں ہے اگر ظلمت
صحیفے کتنے ہی دنیا کو نور بن کے ملے
گناہ گار ہیں لیکن ہے یہ دعا جاویدؔ
خدا ہمیں بھی ملے اور غفور بن کے ملے
جاوید جمیل
No comments:
Post a Comment