Tuesday, 8 December 2015

دیکھ آ کے عجب حال ہے اے یار کسی کا

دیکھ آ کے عجب حال ہے اے یار کسی کا
دم توڑ رہا ہے دلِ بیمار کسی کا
پاتا نہیں آرام دلِ زار کسی کا
پیرو ہے مگر چرخِ جفاکار کسی کا
میں باغ میں ہوں طالبِ دیدار کسی کا
گل پر ہے نظر، دھیان میں رخسار کسی کا
اوٹھواتے ہو تم لاش مِری اپنی گلی سے
ایسی نہ سزا پائے گنہگار کسی کا
تم صاحبِ الفت نہ کہو دوستو مجھ کو
اتنا ہی تو بندہ ہے گنہگار کسی کا
مہتاب پر اے دل مجھے ہوتا ہے یہ دھوکا
پردہ سے نمودار ہے رخسار کسی کا
گھٹ گھٹ کے رلاتا ہے مجھے عہدِ جوانی
ڈھلتا تھا یونہی سایۂ دیوار کسی کا
کہتے ہو قیامت کی ہوا بند ہوئی ہے
دم آج رکا ہے مگر اے یار کسی کا
لب تک کبھی آنے نہ دیا حرفِ شکایت
دل ہے مِرے پہلو میں طرفدار کسی کا
کہتے ہو کہ آج آنکھ پھڑکتی ہے ہماری
بے تاب بہت ہے دلِ بیمار کسی کا
ہے ایک زبان اور حسینوں کی زباں میں
انکار سے خالی نہیں اقرار کسی کا
بالکل ہی سیہ رنگ ہے پیراہنِ جوہر
خنجر بھی تمہارا ہے عزادار کسی کا
دیکھ آؤ کہ بیمار تمہارا تو نہیں ہے
رکھا ہے جنازہ سرِ بازار کسی کا
شیدائے ملاحت ہے مگر اف نہیں کرتا
آخر دلِ زخمی ہے نمک خوار کسی کا
چل بیٹھیے دل بیچنے والوں میں تعشقؔ
سنتے ہیں کہ گھر ہے سرِ بازار کسی کا

تعشق لکھنوی

No comments:

Post a Comment