اپنی فرحت کے دن آئے یار چلے آتے ہیں
کیفیت پر گلِ رخسار چلے آتے ہیں
پڑ گئی کیا نگہِ مست تِرے ساقی کی
لڑکھڑاتے ہوئے میخوار چلے آتے ہیں
یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کسی کی
راہ میں صاحبِ اکثیر کھڑے ہیں مشتاق
خاکسارانِ درِ یار چلے آتے ہیں
باغ میں پھول ہنسے دیتے ہیں بیدردی سے
نالۂ مرغِ گرفتار چلے آتے ہیں
دیکھ کر ابروئے خمدار پھرے یوں عاشق
غُل ہے کھائے ہوئے تلوار چلے آتے ہیں
جس طرح نرغے میں چلتے ہیں غزالِ صحرا
یوں تیری چشم کے بیمار چلے آتے ہیں
ہوں وہ بیخود کہ یہ ہے نالۂ سوزاں پہ گماں
شعلۂ آتشِ رخسار چلے آتے ہیں
چاہیے شورِ قیامت پئے تعظیم اوٹھے
آپ کے عاشقِ رفتار چلے آتے ہیں
شور سنتے ہیں جو ہم چاک گریبانوں کا
بند کھولے سرِ بازار چلے آتے ہیں
ہر طرف حشر میں جھنکار ہے زنجیروں کی
اون کی زلفوں کے گرفتار چلے آتے ہیں
چل گئی تیغِ نگہ آج تعشقؔ پہ ضرور
لوگ اوس کونچہ سے خونبار چلے آتے ہیں
تعشق لکھنوی
اوٹھے=اُٹھے
اون=اُن
اوس=اُس
کونچہ=کوچہ
No comments:
Post a Comment