اظہار کو خیال کی آسودگی ملے
اس چشمِ سنگ میں جو ذرا سی نمی ملے
فصلوں سے کھیت پیڑ گریزاں ثمر سے ہیں
اک تیرگی نگاہ میں گھلتی ہوئی ملے
میں نے لہو میں آگ رکھی ہے کہ کوئی شخص
ظلمت گزیدہ ہو تو اسے روشنی ملے
سوئے ہوئے چنار میرے خواب لے گئے
جاگیں گے یہ تو مجھ کو بھی خواب آسودگی ملے
حکیم منظور
No comments:
Post a Comment