نہ زمین میری حریف ہے نہ زمان میرے خلاف ہے
میں اک ایسا سچ ہوں جو تلخ ہے سو جہان میرے خلاف ہے
یہ عدالتوں کا ہے معجزہ کہ گداگری کا شعورِ نو
سو مِرے گواہِ عزیز ہی کا بیان میرے خلاف ہے
اک اداس عہد کی حسرتیں اک عجیب دور کی حیرتیں
میں گداگروں کے دیار میں ہوں جو زندہ دفن مزار میں
مِرا شوق میرا زوال ہے، مِرا گیان میرے خلاف ہے
میں زیاں کی رت کا چراغ تھا مگر عہد سود میں جل اٹھا
یہ سیاہ رات کا ہمنوا، یہ جہان میرے خلاف ہے
اسعد بدایونی
No comments:
Post a Comment