Monday, 7 December 2015

اس شہر عزت داراں میں ہم مال و منال نہیں رکھتے

اس شہرِ عزت داراں میں ہم مال و منال نہیں رکھتے
کبھی اپنا خیال نہیں رکھتے کبھی اس کاخیال نہیں رکھتے
کبھی چاہا تھا کسی صورت کو کبھی پوجا تھا کسی مورت کو 
اب ہجر کی حد سے باہر ہیں، اب شوقِ وصال نہیں رکھتے
وہ گل ہیں کون سی کیاری میں، جنہیں مرجھانے کی فکر نہیں
وہ آئینے کس دکان میں ہیں جو گردِ ملال نہیں رکھتے
یہ اور طرح کے شکاری ہیں، بس تیرِ ستم کے پجاری ہیں 
کچھ دانہ ان کے پاس نہیں، یہ کوئی جال نہیں رکھتے
بے بال و پری میں زندہ ہیں پرخود سے کہاں شرمندہ ہیں
ہمیں فکرِ عروج سے کیا لینا جب فکرِ زوال نہیں رکھتے
اسباب وعلل سے دوری ہی ہم لوگوں کی مجبوری ہے
ہم بندے اپنے رب کے ہیں، سو کچھ جنجال نہیں رکھتے
اس شہرِ گماں میں مستقبل اور حال کی صورت ایک سی ہے
اس خوف سے اپنے بچے کا ہم نام اقبال نہیں رکھتے

اسعد بدایونی

No comments:

Post a Comment