گردشِ جام نہیں، گردشِ ایام تو ہے
سعئ ناکام سہی، پھر بھی کوئی کام تو ہے
دل کی بے تابی کا آخر کہیں انجام تو ہے
میری قسمت میں نہیں، دہر میں آرام تو ہے
مائلِ لطف و کرم حسنِ دلآرام تو ہے
تُو نہیں میرا مسیحا، میرا قاتل ہی سہی
مجھ سے وابستہ کسی طور تِرا نام تو یے
حلقۂ موج میں ایک اور سفینہ آیا
ساحلِ بحر پر کہرام کا ہنگام تو ہے
تنگ دستو، تہی دامانو، کرو شکرِ خدا
مئے گلفام نہیں ہے، شفقِ شام تو ہے
احمد راہی
No comments:
Post a Comment