میں دل زدہ ہوں اگر، دل فگار وہ بھی ہیں
کہ جرمِ عشق کے اب دعویدار وہ بھی ہیں
ہوا ہے جن کے کرم سے دل و نظر کا زیاں
بہ فیض وقت مِرے غمگسار وہ بھی ہیں
شہید جذبوں کی فہرست کیا مرتب ہو
دلِ تباہ یہ آثار ہیں قیامت کے
رہینِ گردشِ لیل و نہار وہ بھی ہیں
حریمِ حسن کی تزئین تھے جو پیکر ناز
بہ حال زار سرِ رہگزار وہ بھی ہیں
وہ جن سے عام ہوئی داستانِ عہدِ جنوں
تِرے گنہ دلِ ناکردہ کار وہ بھی ہیں
احمد راہی
No comments:
Post a Comment