Monday, 7 December 2015

میں دل زدہ ہوں اگر دل فگار وہ بھی ہیں

میں دل زدہ ہوں اگر، دل فگار وہ بھی ہیں
کہ جرمِ عشق کے اب دعویدار وہ بھی ہیں
ہوا ہے جن کے کرم سے دل و نظر کا زیاں
بہ فیض وقت مِرے غمگسار وہ بھی ہیں
شہید جذبوں کی فہرست کیا مرتب ہو
شمار میں جو نہیں بے شمار وہ بھی ہیں
دلِ تباہ یہ آثار ہیں قیامت کے
رہینِ گردشِ لیل و نہار وہ بھی ہیں
حریمِ حسن کی تزئین تھے جو پیکر ناز
بہ حال زار سرِ رہگزار وہ بھی ہیں
وہ جن سے عام ہوئی داستانِ عہدِ جنوں
تِرے گنہ دلِ ناکردہ کار وہ بھی ہیں

احمد راہی

No comments:

Post a Comment