Tuesday, 5 April 2016

نیا سوال نہ کوئی نئی گزارش ہے

نیا سوال نہ کوئی نئی گزارش ہے
چراغِ شب کی ہوا سے وہی گزارش ہے
بس اب تو حجرۂ غفلت میں جینے دیجے مجھے
حضور! آپ سے میری یہی گزارش ہے
وہ اک صدا ہے کہ دل کھینچتی ہوئی تصویر
وہ آنکھ ہے کہ کوئی بولتی گزارش ہے
یہ میری خاک ہواؤں کے ہاتھ مت دینا
زمین! تجھ سے مِری آخری گزارش ہے
لرز رہا ہے جو اک اشک میری پلکوں سے
دراصل یہ کوئی دم توڑتی گزارش ہے

سجاد بلوچ

No comments:

Post a Comment