نیا سوال نہ کوئی نئی گزارش ہے
چراغِ شب کی ہوا سے وہی گزارش ہے
بس اب تو حجرۂ غفلت میں جینے دیجے مجھے
حضور! آپ سے میری یہی گزارش ہے
وہ اک صدا ہے کہ دل کھینچتی ہوئی تصویر
یہ میری خاک ہواؤں کے ہاتھ مت دینا
زمین! تجھ سے مِری آخری گزارش ہے
لرز رہا ہے جو اک اشک میری پلکوں سے
دراصل یہ کوئی دم توڑتی گزارش ہے
سجاد بلوچ
No comments:
Post a Comment