در آئینے میں ہو گئے آخر یہاں وہاں
بکھرے پڑے ہیں میرے مناظر یہاں وہاں
بارش کی ایک بوند جو میرا نصیب تھی
پھرتی ہے میرے جسم کی خاطر یہاں وہاں
دل کو تو کارِ عشق سے فرصت نہیں نصیب
سمٹا ہی تھا کہ موجِ ہوا پھر پلٹ گئی
تقسیم کر گئی ہے مجھے پھر یہاں وہاں
تجھ سے بچھڑ کے دل تو کہیں کا نہیں رہا
پھرتا ہوں میں اگرچہ بظاہر یہاں وہاں
سجادؔ سن رہا ہوں وہ اب شہر میں نہیں
پھرتا تھا تیرے ساتھ جو شاعر یہاں وہاں
سجاد بلوچ
No comments:
Post a Comment