Saturday, 9 April 2016

وہ نگاہیں کیا کہوں کیونکر رگ جاں ہو گئیں

وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگِ جاں ہو گئیں
دل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں
اک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے 
ہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں
دم رکا تھا جس کی الجھن سے مِرے سینے میں آہ
پھر وہی زلفیں مِرے غم میں پریشاں  ہو گئیں
عشق کے قصے کو ہم سادہ سمجھتے تھے، مگر
جب ورق الٹے تو آنکھیں سخت حیراں  ہو گئیں
اس کی شامِ غم پہ صدقے ہو مِری صبحِ حیات
جس کے ماتم میں تِری زلفیں پریشاں  ہو گئیں
کس دلِ آوارہ کی میّت گھر سے نکلی ہے عزیزؔ
شہر کی آباد راہیں آج ویراں  ہو گئیں

عزیز لکھنوی

No comments:

Post a Comment