وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگِ جاں ہو گئیں
دل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں
اک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے
ہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں
دم رکا تھا جس کی الجھن سے مِرے سینے میں آہ
عشق کے قصے کو ہم سادہ سمجھتے تھے، مگر
جب ورق الٹے تو آنکھیں سخت حیراں ہو گئیں
اس کی شامِ غم پہ صدقے ہو مِری صبحِ حیات
جس کے ماتم میں تِری زلفیں پریشاں ہو گئیں
کس دلِ آوارہ کی میّت گھر سے نکلی ہے عزیزؔ
شہر کی آباد راہیں آج ویراں ہو گئیں
عزیز لکھنوی
No comments:
Post a Comment