Saturday, 9 April 2016

ہجر کی رات یاد آتی ہے

 ہجر کی رات یاد آتی ہے

پھر وہی بات یاد آتی ہے

تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی

بات پر بات یاد آتی ہے

تم تھے اور ہم تھے چاند نکلا تھا

ہائے وہ رات یاد آتی ہے

صبح کے وقت ذرے ذرے کی

وہ مناجات یاد آتی ہے

ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی

اب تو دن رات یاد آتی ہے

مے سے توبہ تو کی عزیز مگر

اکثر اوقات یاد آتی ہے


عزیز لکھنوی

No comments:

Post a Comment