کس کس نے نہیں پوچھا مگر ہم نے نہ ہاں کی
اس طور سے اجڑے ہیں کہ تعمیر کہاں کی
پھر دل ہی لگایا نہ کبھی ہم نے کسی سے
پھر درد کی تصویر،۔۔۔ نہ دیوار پہ ٹانکی
بے ساختہ آگے ہی بڑھا دیتے ہیں سن کر
اب فال نکلوانے بھی کوئی نہیں جاتا
جب خواب ہی خالی ہوں تو تعبیر کہاں کی
جو جاتا ہے رہ جاتا ہے پھر ہو کے وہیں کا
لوٹے تو کوئی لائے خبر شہرِ گماں کی
رحمان حفیظ
No comments:
Post a Comment