جسے بھی دیکھتا ہوں، پیار کی تلاش میں ہے
اور اب تو دھوپ بھی دیوار کی تلاش میں ہے
عجب نہیں کہ یہ پھیلے گلی گلی، گھر گھر
یہ مُشک جو کسی عطار کی تلاش میں ہے
پھر ایک بار دسمبر سے آگے جا نکلا
ہم اس کے نغمۂ بے صوت کے اسیر ہوئے
جو عندلیب ابھی منقار کی تلاش میں ہے
دکھائی دیتا نہیں اور کوئی قیس کے بعد
یہ داستاں کسی کردار کی تلاش میں ہے
پرائی آگ میں جلتی بھی کب تلک آخر
یہ دھوپ سایۂ دیوار کی تلاش میں ہے
رحمان حفیظ
No comments:
Post a Comment