کہنہ زمین پر بھی نیا آسماں بنا
جو لفظ گونگے ہو چکے، ان کی زباں بنا
نقش و نگارِ عہدِ گزشتہ کی فکر چھوڑ
اب نقشۂ زمانۂ آئندگاں بنا
یہ بھی تو دیکھ ان پہ یہاں کیا گزر گئی
جب روشنی نہیں ہے تو خوشبو بکھیر دے
بتی نہیں بنی تو اگربتیاں بنا
کچھ دیر میں جزیرہ تہِ آب آئے گا
لہروں کو دیکھ، بجرے بنا، بادباں بنا
کام و دہن کی ضد ہے تو پوری ضرور کر
اپنے ہی دل کی آج بھلے بوٹیاں بنا
تنکے بھی چیخ چیخ کے فریاد کر چکے
رخ دیکھ کے ہوا کا نیا آشیاں بنا
خاکی تھا، خاک ہی مِری جائے نماز تھی
پھر ایک دن خدا کا بھی میں رازداں بنا
رحمان حفیظ
No comments:
Post a Comment