مجھ کو بے خوابی کی ٹہنی پر سسکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
اپنی ہی بے دردیوں کو یوں مہکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
صورت مہتاب رہتا ہے مِرے سر پر سفر کے ساتھ ساتھ
مجھ کو صحرا کی اداسی میں بھٹکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
پیڑ کی صورت کھڑا رہتا ہے میری موج کی سرحد کے پاس
رات تھک کر آن گرتا ہے مِرے جلتے بدن کی آنچ پر
اپنے آنسو میرے گالوں پر ڈھلکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
میں وہ بوسیدہ سا پیراہن ہوں جو پہنا گیا تھا ایک بار
مجھ کو محرومی کی کھونٹی پر لٹکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
میری ہی مجبوریوں کے ذکر سے ناسکؔ رُلاتا ہے مجھے
سامنے اپنے نئے جگنو دمکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
نثار ناسک
No comments:
Post a Comment