Friday, 8 April 2016

مجھ کو بے خوابی کی ٹہنی پر سسکتے دیکھتا رہتا ہے وہ

مجھ کو بے خوابی کی ٹہنی پر سسکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
اپنی ہی بے دردیوں کو یوں مہکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
صورت مہتاب رہتا ہے مِرے سر پر سفر کے ساتھ ساتھ
مجھ کو صحرا کی اداسی میں بھٹکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
پیڑ کی صورت کھڑا رہتا ہے میری موج کی سرحد کے پاس
میرے سر پر دھوپ کے نیزے چمکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
رات تھک کر آن گرتا ہے مِرے جلتے بدن کی آنچ پر
اپنے آنسو میرے گالوں پر ڈھلکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
میں وہ بوسیدہ سا پیراہن ہوں جو پہنا گیا تھا ایک بار
مجھ کو محرومی کی کھونٹی پر لٹکتے دیکھتا رہتا ہے وہ
میری ہی مجبوریوں کے ذکر سے ناسکؔ رُلاتا ہے مجھے
سامنے اپنے نئے جگنو دمکتے دیکھتا رہتا ہے وہ

نثار ناسک

No comments:

Post a Comment