وہ ایک سایہ سا چھت پر مِری تلاش میں ہے
میرے ہراس کا پیکر مِری تلاش میں ہے
میرا مَرا ہوا انسان میری شکست کا راز
میرا ہی بھیس بدل کر مِری تلاش میں ہے
میں جس کے سائے سے اٹھا تھا تیری یاد کے ساتھ
میں سازشوں میں گھِرا ایک یتیم شہزادہ
یہیں کہیں کوئی خنجر مِری تلاش میں ہے
گروہِ بردہ فروشاں میں قید ہوں میں ناسکؔ
بہت دنوں سے مِرا گھر مِری تلاش میں ہے
نثار ناسک
No comments:
Post a Comment