Monday, 4 April 2016

مری کہانی میں کردار بھی اسی کا تھا

مِری کہانی میں کردار بھی اُسی کا تھا
سہا جو میں وہ آزار بھی اسی کا تھا
وہ جس کو ہونے کا احساس بھی دیا ہم نے
ہماری ذات سے انکار بھی اسی کا تھا
وہ ایک وعدہ بھی ہم سے وفا نہ کر پایا
مگر یہ دل کہ وفادار بھی اسی کا تھا
بچھڑ گیا ہے تو اب دھوپ بھی ستاتی ہے
کھُلا کہ سایۂ دیوار بھی اسی کا تھا
گزر گئے یونہی محرومِ مدعا ہم لوگ
گلی بھی اس کی تھی بازار بھی اسی کا تھا

زبیر قیصر

No comments:

Post a Comment