ہمارے چہرے کو اخبار سب سمجھتے ہیں
یہ کیسا غم ہے کہ بیمار سب سمجھتے ہیں
جسے بھی دھوپ ستاتی ہے بیٹھ جاتا ہے
مجھے تو سایۂ دیوار سب سمجھتے ہیں
میں جیتا جاگتا انساں ہوں، سانس لیتا ہوں
کوئی نہ مجھ کو سمجھتا تو کوئی بات بھی تھی
یہی ہے دکھ کہ مِرے یار سب سمجھتے ہیں
یونہی تو شعروں پہ ملتی نہیں یہ داد ہمیں
ہمارے کرب کا اظہار سب سمجھتے ہیں
بسا ہوا ہے مِرے شہر میں وہ دشت زبیرؔ
یہاں پہ عشق کا آزار سب سمجھتے ہیں
زبیر قیصر
No comments:
Post a Comment