تیرگی سے نکال سکتے ہو؟
میری دنیا اجال سکتے ہو؟
مجھ کو حیرت میں ڈالنے والے
میری وحشت سنبھال سکتے ہو؟
میرے پیکر کو پوجنے والے
مجھ کو صورت میں ڈھال سکتے ہو؟
میری آنکھوں میں غور سے دیکھو
تم مِری بات ٹال سکتے ہو؟
مجھ کو ہونا ہے ماورائے بدن
عکسِ خوشبو میں ڈھال سکتے ہو
وہ جو چھلکایا تم نے ہونٹوں سے
قند پیالی میں ڈال سکتے ہو؟
شائستہ سحر
No comments:
Post a Comment