Saturday, 19 September 2020

شب وصال کا چہرے پہ رنگ مل کر بھی

 شبِ وصال کا چہرے پہ رنگ مل کر بھی

وہ تیرگی میں رہا چاندنی میں ڈھل کر بھی

نقاب چہرے پہ اپنے سجا لے کتنے ہی

تُو آج بھی ہے وہی پیراہن بدل کر بھی

کسی کی چھاؤں نے بخشا نہیں قرار مجھے

میں بے سکوں ہی رہی دھوپ سے نکل کر بھی

تِرے وجود سے لپٹی تھی کیسی کجلاہٹ

تُو صاف ہی نہ ہوا آنکھ میں اجل کر بھی

سمجھ میں آئیں گے پیروں کے آبلے میرے

کبھی تو دیکھو، مِری راہ گزر پہ چل کر بھی

یہ ٹھوکریں ہیں کہانی مرے مقدر کی

سو بار بار گِری ہوں سحر سنبھل کر بھی


شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment