Monday, 21 September 2020

غم ہے بلا کہ وحشت سرکار ہے گرو

 غم ہے بلا کہ وحشتِ سرکار ہے گُرو

گردن پہ اپنی ان دنوں تلوار ہے گرو

اٹھتے ہی من کی بات کرے گا ابھی یہاں

سونے دو اس کو ذہن سے بیمار ہے گرو

جس کی وفا پہ رشک کناں میرا شہر تھا

وہ شخص میری راہ کی دیوار ہے گرو

خود کو حسینی کہتا ہوا پھر رہا ہے تُو

پھر کیوں یزیدیوں کا طرفدار ہے گرو

ہم کو جمال یار کی گلیوں سے ہے شغف 

جننت کا تیری کون طلبگار ہے گرو 

نفرت کے بیج بو گئے جس دن سے تم یہاں

ہر راہ میرے شہر کی پُر خار ہے گرو

کیوں بانٹتا ہے پھر مجھے مسلک کے نام پر 

تُو تو میرے قبیلے کا سردار ہے گرو

خود کے بچھائے جال میں پھنستا چلا گیا 

سمجھا تھا میں نے خوب سمجھدار ہے گرو

پھر بھی ہے یہ امید کی ساحل کو پائے گا

کاغذ کی جس کے ہاتھ میں پتوار ہے گرو

اب دیکھنا ہے آئے گا کب انقلاب دل 

ہاتھوں میں اب قلم نہیں ہتھیار ہے گرو


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment