خود کشی
غم کی تیز لہریں جب دل کو چوٹ دیتی تھیں
ہاتھ کی لکیروں پر جب نظر کبھی پڑتی
پھوٹ پھوٹ روتا تھا اپنے میں مقدر پر
پھر خیال آیا کہ لاؤ خود کشی کر لیں
جیسے میں نے رسی کو ڈالا اپنی گردن میں
موت کو گلے سے میں جب لگانے والا تھا
پھر خیال یہ آیا سارا غم ہے دنیا میں
بعد میرے مرنے کے یہ تو کم نہیں ہو گا
آج میرے مرنے سے کس کو چین آئے گا
مسکراتے بچوں کو کون گود میں لے گا
در بدر کی کھائیں گے ٹھوکریں میرے بچے
روح ایسے منظر کو جب کبھی بھی دیکھے گی
بعد مر کے بھی شاید روح یوں ہی تڑپے گی
باپ ماں بہن بیوی سب کو ہو گا اک صدمہ
یہ بھی ہو کوئی میرے غم میں رو کے مر جائے
ایک میرے مرنے سے ختم غم نہیں ہو گا
خود کشی مصیبت کا حل کبھی نہیں ہوتا
راستہ یہ جیون کا غم سے ہو کے جاتا ہے
میں ہی صرف دنیا میں تنگ حال تھوڑی ہوں
لوگ سب بھٹکتے ہیں روزگار کی خاطر
ہاں مگر کوئی مجھ سا اتنا گر نہیں سکتا
اس طرح کی حرکت وہ سوچ بھی نہیں سکتا
شرم آ رہی ہے اب اپنی سوچ پر مجھ کو
رات میں نے سوچا تھا آج خود کشی کر لوں
رات میں نے سوچا تھا آج خود کشی کر لوں
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment