Saturday, 1 January 2022

آسماں سفاک ہو جائے تو پھر تاریخ اک کروٹ بدلتی ہے

 نئی تاریخ


تشدد جبر ظلم و جور 

جب قانون بن جائے

ہوا مسموم ہو جائے

صداقت جرم ہو

انسانیت مظلوم ہو جائے

زمیں جلنے لگے اور

آسماں سفاک ہو جائے

تو پھر تاریخ اک کروٹ بدلتی ہے

یہ پاسِ مصلحت، عہدِ ستمگر میں

بدن سچائی کا مصلوب کر کے

سرِ مقتل سجا ہو

اندھیرے خوف و دہشت 

دور تک رقصاں ہوں

سناٹوں کا عالم ہو

سسکتی ذات کے زنداں میں 

زنجیروں کا ماتم ہو

سرِ دریا غمِ تشنہ لبی تقدیر ٹہرے

تمازت میں سرِ شاخِ شجر اک پل رکنا

قابلِ گردن زدنئ تقصیر ٹہرے

تو پھر تاریخ اک کروٹ بدلتی ہے

نئی اک رزم گہ دھرتی پہ سجتی ہے

جہاں جاں دادگانِ عشق

اپنی ہی رگِ جاں کے لہو سے

سرِ مقتل نئی تاریخ لکھتے ہیں

یہ وہ تاریخ ہوتی ہے

جسے ہر عہد پڑھتا ہے


پروین حیدر

No comments:

Post a Comment