ذرا بتاؤ کہ میں نے دِیا🪔 بنایا ہے
مجھے جلاؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے
یقیں کرو کہ کبھی شاعری نہیں کی ہے
فریب کھاؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے
قریب آؤ کہ تم بھی دِیے بنانے لگو
قریب آؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے
خوشی مناؤ کہ تم نے بنائی ہے دولت
مذاق اڑاؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے
اب اپنے سائے کو دیکھو گے دوستو کب تک
نظر گھماؤ کہ میں نے دیا بنایا ہے
خرم شاہ
No comments:
Post a Comment