Tuesday, 12 August 2014

قسمت ساتھ کہاں دیتی ہے چاند چکور کی یاری میں

قسمت ساتھ کہاں دیتی ہے چاند چکور کی یاری میں
کون مسیحا کام آتا ہے، دل کی اس بیماری میں
میرے پاس تو رب کے لیے بھی پھول نہیں، لوبان نہیں
تیرے زیور کیا بنواؤں، میں اتنی ناداری میں
بدل کے تالا چابی تم نے اپنے پاس ہی رکھ لی ہے
بولو، کیوں تقدیر چھپائی، میرے گھر، الماری میں

پت جھڑ کو جو اجرک بھی بدلنے نہیں دیتے

پت جھڑ کو جو اجرک بھی بدلنے نہیں دیتے
گجروں کے لیے،  موتیے کھلنے نہیں دیتے
کس درجہ ہیں کم ظرف بخیلانِ شریعت
مفہوم کو الفاظ سے ملنے نہیں دیتے
نفرت کے پرستار ہیں، ظلمت کے عملدار
قندیلِ محبت بھی وہ جلنے نہیں دیتے

لاہور سے خوشبو کے سلام آنے لگے ہیں

لاہور سے خوشبو کے سلام آنے لگے ہیں
اِس موسمِ سرما میں بھی آم آنے لگے ہیں
تازہ ہے بہت ہجر کی لذت کئی دن سے
کچھ درد پرانے مرے کام آنے لگے ہیں
اب میکدۂ خواب ہے آباد سرِ شب
آنکھوں کے چھلکتے ہوئے جام آنے لگے ہیں

زمیں پکڑ کے فلک تک جھنجھوڑ لیتے ہیں

زمیں پکڑ کے فلک تک جھنجھوڑ لیتے ہیں
پٹخ کے در پہ ترے، سر بھی پھوڑ لیتے ہیں
یہ اہلِ عشق ہیں پوچھ اِنکی رمز، رومی سے
کماں سے چُھوٹا ہوا تیر موڑ لیتے ہیں
ہوئے ہیں ایسے پیمبر انہی فقیروں کے
جو ماہ تاب کی اُنگلی مروڑ لیتے ہیں

بہہ گئے ضبط کے ساگر کے کنارے سارے

بہہ گئے ضبط کے ساگر کے کنارے سارے
ریگِ غم پی گئی بہتے ہوئے دھارے سارے
عمر بھر پہنے رہے تن پہ ترا ہجر و فراق
جبر کے جتنے بھی موسم تھے گزارے سارے
بوجھ سے جن کے، بدن دوہرا ہوا جاتا تھا
ایک اِک کر کے وہ الزام اتارے سارے

Thursday, 7 August 2014

اگلا سفر طویل نہیں

اگلا سفر طویل نہیں

 وہ دن بھی آئے ہیں، اس کی سیاہ زلفوں میں
 کپاس کھلنے لگی ہے، جھلکتی چاندی کے
 کشیدہ تار چمکنے لگے ہیں بالوں میں
 وہ دن بھی آئے ہیں، سرخ و سپید بالوں میں
 دھنک کا کھیلنا ممنوع ہے، لبوں پہ فقط
 گلوں کی تازگی اک سایۂ گریزاں ہے

بہی کھاتہ

بہی کھاتہ

 روز لکھتا ہوں آنے والے کل
 اور پرسوں کی زندگی کا حساب
 بہی کھاتہ کہ جس میں “فردا” کے
 قرض کی واجبی ادائی کی
 ذمہ داری ہے “آج” کے سر پر
یہ “زرِ پیشگی” عجب ہے مِرا