سنی گئی ہے یہ افواہ میرے بارے میں
میں مشوروں سے رہا عمر بھر خسارے میں
تمہارے بعد اسے پڑھ رہا ہوں کثرت سے
لکھی ہے صبر کی تلقین جس سپارے میں
بروز حشر اگر بولنے کا موقع ملا
خدا سے بات کروں گا تمہارے بارے میں
سنی گئی ہے یہ افواہ میرے بارے میں
میں مشوروں سے رہا عمر بھر خسارے میں
تمہارے بعد اسے پڑھ رہا ہوں کثرت سے
لکھی ہے صبر کی تلقین جس سپارے میں
بروز حشر اگر بولنے کا موقع ملا
خدا سے بات کروں گا تمہارے بارے میں
خدا کرے تُو کسی راز کا امیں نہ بنے
گُماں گُماں ہی رہے اور کبھی یقیں نہ بنے
تجھے یہ شوق کہ پرواز ہو بلند اپنی
مجھے یہ ڈر کہ کبھی آسماں زمیں نہ بنے
یہ بات اور ہے کوشش ہزار کی ہم نے
ہمارے شعر تمہاری طرح حسیں نہ بنے
دل میں کیوں اتر نہیں رہے
لوگ، معتبر نہیں رہے
منہ میں جو کُھدی ہیں خندقیں
ان کو بند کر نہیں رہے
موت کھا رہی ہے زندگی
پھر بھی لوگ ڈرنہیں رہے
جس قدر حکمت عملی تھی الٹ کر آیا
درد اجڑے ہوئے رستوں پہ پلٹ کر آیا
زرد چہرے پہ ذرا سرخی نہ تھی حالانکہ
ایک اک قطرہ مِرے خوں کا سمٹ کر آیا
تم ابھی ٹھہرو مسرت بھرے پل کی یادو
میں ذرا اپنی اداسی سے نمٹ کر آیا
بکھرتے رابطوں کا ہے، بچھڑتے راستوں کا ہے
نومبر نام ہے جس کا مہینہ حادثوں کا ہے
کہیں ہے آس کا بادل کہیں یادوں کی بوندیں ہیں
مچلتی خواہشوں کا ہے، یہ موسم بارشوں کا ہے
وہی مے کش ہوائیں ہیں وہی گم صم فضائیں ہیں
مِری پُر امن دنیا میں یہ موسم سازشوں کا ہے
سیاہی شب کی آنکھوں میں اگر اکسیر رہ جائے
مری آنکھوں میں میرے خواب کی تصویر رہ جائے
تمہیں جانا ہے تو جاؤ مگر یہ دھیان میں رکھنا
کہ دروازے پہ بس ہلتی ہوئی زنجیر رہ جائے
مِری ایسے ہی شاید کربلا والوں سے نسبت ہو
کہیں اٹکا ہوا زخموں میں کوئی تیر رہ جائے
کہا غموں نے آنسوؤں سے آئیے! تو آ گئے
سپاہیوں کو افسروں کے خط ملے تو آ گئے
ہمارے دل کا شہر ہے، تمہارا گاؤں تو نہیں
کہ سال بھر میں جب تمہارا دل کرے تو آ گئے
ان آنسوؤں کے راستے، سکول کا سفر ہوئے
گھروں سے چل نہیں رہے تھے، چل پڑے تو آ گئے