سخت مشکل میں ہوں اِک خواہشِ سادہ کر کے
توڑ بیٹھا ہوں کئی بار ارادہ کر کے
میں جسے اپنی محبت کی اکائی سمجھا
اس نے تو چھوڑ دیا ہے مجھے آدھا کر کے
اسکی باتوں کے بھروسے پہ کہاں تک جائیں
وہ تو پورا نہیں کرتا کوئی وعدہ کر کے
سودا سفر کا تھا کبھی اب سر میں کچھ نہ تھا
اک بُوئے رفتگاں کے سوا گھر میں کچھ نہ تھا
پھیلی ہوئی ہتھیلی پہ رکھی تھی عاجزی
اور اختیار دستِ تونگر میں کچھ نہ تھا
پھر سارا کام پاؤں کی لغزش نے کر دیا
ٹھوکر لگی تو کانچ کے پیکر میں کچھ نہ تھا