Saturday, 21 September 2013

ہم ماٹی میں سو جائیں گے

ہم ماٹی میں سو جائیں گے 

ہم آج بہت بے نام سہی
گمنام سہی
تھوڑے تھوڑے بدنام سہی
یہ شعر بہت  بے قیمت ہیں
جو لکھتے ہیں
یہ خواب ہمارے جھوٹے ہیں

محبت کربلا سی ہے

محبت کربلا سی ہے 

محبت چار حرفوں کا صحیفہ ہے
محبت "میم" سے ہے مرگ
"ح" سے حادثہ بھی ہے
یہ "ب" سے بے کلی ہے اور "ت" سے تاج کانٹوں کا
اگر یہ مرگ ہے تو مرگ سے کس کو مفر سوچو؟

بنے کوئی تمہارا کس لیے جی

بنے کوئی تمہارا کس لیے جی؟
یہ چنچل سا اشارہ کس لیے جی؟
اگر ہے تیرگی کا راج ہر سُو
تو پھر روشن ستارہ کس لیے جی؟
وہ کہتا ہے کہ دل پھر سے لگاؤ
خسارے پر خسارہ کس لیے جی؟

خاک دل کا دیار کر ڈالا

خاک دل کا دیار کر ڈالا
پھر سے سینہ فگار کر ڈالا
اور کتنے دِئیے جلاؤ گے؟
گھر کو تم نے مزار کرڈالا
پھر ہواؤں سے دوستی کر لی
پھر سے دل داغدار کر ڈالا

وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم

وہ جگنو ہے ستارا کیوں کریں ہم
نہیں ہے وہ ہمارا، کیوں کریں ہم
کسی کے ساتھ گھل مِل سے گئے ہو
بھلا اِس کو گوارا کیوں کریں ہم
جن آنکھوں میں سمندر ڈُوبتا ہے
ان آنکھوں سے کنارہ کیوں کریں ہم 

Friday, 20 September 2013

سخت مشکل میں ہوں اک خواہش سادہ کر کے

سخت مشکل میں ہوں اِک خواہشِ سادہ کر کے
توڑ بیٹھا ہوں کئی بار ارادہ کر کے
میں جسے اپنی محبت کی اکائی سمجھا
اس نے تو چھوڑ دیا ہے مجھے آدھا کر کے
اسکی باتوں کے بھروسے پہ کہاں تک جائیں
وہ تو پورا نہیں کرتا کوئی وعدہ کر کے

سودا سفر کا تھا کبھی اب سر میں کچھ نہ تھا

سودا سفر کا تھا کبھی اب سر میں کچھ نہ تھا
اک بُوئے رفتگاں کے سوا گھر میں کچھ نہ تھا
پھیلی ہوئی ہتھیلی پہ رکھی تھی عاجزی
اور اختیار دستِ تونگر میں کچھ نہ تھا
پھر سارا کام پاؤں کی لغزش نے کر دیا
ٹھوکر لگی تو کانچ کے پیکر میں کچھ نہ تھا