Tuesday, 25 January 2022

یہی دروازہ مدینے کی طرف کھلتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دل ثنا خیز مہینے کی طرف کھلتا ہے

یہ سرا نور کے زینے کی طرف کھلتا ہے

نعت آور ہوں اگر خواب تو اے موجِ اجل

نیند کا متن بھی جینے کی طرف کھلتا ہے

طے شدہ ہے کہ یہاں شجرۂ خوشبو کا بھرم

آپﷺ کے عین پسینے کی طرف کھلتا ہے

واقعی عشق نبی میں جس کو جینا آ گیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


واقعی عشق نبیؐ میں جس کو جینا آ گیا

ہاتھ اس کے دو جہاں کا ہر خزینہ آ گیا

کی محمدؐ کی اطاعت جس کسی نے قلب سے

پاس عقبیٰ کا اسی کے سب دفینہ آ گیا

نور حق سے دو جہاں کو جگمگانے کیلئے

رحمت عالمﷺ کی صورت اک نگینہ آ گیا

اس محبوب کا صدقہ میری مان ہوا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اس محبوبؐ کا صدقہ میری مان ہَوا

تجھ پر نافذ ہے جس کا فرمان ہوا

طیبہ میں اک نعتؐ ہدیہ لیتی جا

کر دے مجھ پر اتنا تو احسان ہوا

کر معمور دل و جاں کو اس خوشبو سے

لا طیبہ سے کچھ عطر و لوبان ہوا

ہر شے میں نظر آتا ہے جب روپ تمہارا

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


ہر شے میں نظر آتا ہے جب روپ تمہارا

آنکھوں کی طلب کیوں ہے تیرا ایک نظارا

قربان میں تیرے نام پہ، ہو ایک اشارہ

یہ جان ہے کیا چیز تو ہے جان سے پیارا

اس درجہ تیری یاد میں طاقت میرے مولا

طوفاں میں گھری کشتی کو مل جائے کنارا

Monday, 24 January 2022

یار کا وصل شبا شب نہ ہوا تھا سو ہوا

 یار کا وصل شبا شب نہ ہوا تھا سو ہوا

ساغر عشق لبا لب نہ ہوا تھا سو ہوا

لے چکا دل کو وہ مجھ ہاتھ سے تب میں نے کہا

اس قدر تیرا مطالب نہ ہوا تھا سو ہوا

جور اور ظلم سے دنیا میں یہ خوباں کا اسم

بے وفائی کا ملقب نہ ہوا تھا سو ہوا

ہم اپنے حال میں ماضی کی شان بھول گئے

 ہم اپنے حال میں ماضی کی شان بُھول گئے

عطور بھول گئے،۔ پاندان بھول گئے

گلی میں بھولی ہوئی اک، کمان بھول گئے

رگوں میں کس کا لہو ہے، جوان بھول گئے

درخت پر یہ پرندوں نے کیوں سکوت کیا

یہ کیا ہوا؟ کہ مؤذن اذان بھول گئے

زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے

 زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے

دل کسی کا دکھا نہیں سکتے

وہ یہاں تک جو آ نہیں سکتے

کیا مجھے بھی بلا نہیں سکتے

وعدہ بھی ہے تو ہے قیامت کا

جس کو ہم آزما نہیں سکتے