عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل ثنا خیز مہینے کی طرف کھلتا ہے
یہ سرا نور کے زینے کی طرف کھلتا ہے
نعت آور ہوں اگر خواب تو اے موجِ اجل
نیند کا متن بھی جینے کی طرف کھلتا ہے
طے شدہ ہے کہ یہاں شجرۂ خوشبو کا بھرم
آپﷺ کے عین پسینے کی طرف کھلتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل ثنا خیز مہینے کی طرف کھلتا ہے
یہ سرا نور کے زینے کی طرف کھلتا ہے
نعت آور ہوں اگر خواب تو اے موجِ اجل
نیند کا متن بھی جینے کی طرف کھلتا ہے
طے شدہ ہے کہ یہاں شجرۂ خوشبو کا بھرم
آپﷺ کے عین پسینے کی طرف کھلتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
واقعی عشق نبیؐ میں جس کو جینا آ گیا
ہاتھ اس کے دو جہاں کا ہر خزینہ آ گیا
کی محمدؐ کی اطاعت جس کسی نے قلب سے
پاس عقبیٰ کا اسی کے سب دفینہ آ گیا
نور حق سے دو جہاں کو جگمگانے کیلئے
رحمت عالمﷺ کی صورت اک نگینہ آ گیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اس محبوبؐ کا صدقہ میری مان ہَوا
تجھ پر نافذ ہے جس کا فرمان ہوا
طیبہ میں اک نعتؐ ہدیہ لیتی جا
کر دے مجھ پر اتنا تو احسان ہوا
کر معمور دل و جاں کو اس خوشبو سے
لا طیبہ سے کچھ عطر و لوبان ہوا
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
ہر شے میں نظر آتا ہے جب روپ تمہارا
آنکھوں کی طلب کیوں ہے تیرا ایک نظارا
قربان میں تیرے نام پہ، ہو ایک اشارہ
یہ جان ہے کیا چیز تو ہے جان سے پیارا
اس درجہ تیری یاد میں طاقت میرے مولا
طوفاں میں گھری کشتی کو مل جائے کنارا
یار کا وصل شبا شب نہ ہوا تھا سو ہوا
ساغر عشق لبا لب نہ ہوا تھا سو ہوا
لے چکا دل کو وہ مجھ ہاتھ سے تب میں نے کہا
اس قدر تیرا مطالب نہ ہوا تھا سو ہوا
جور اور ظلم سے دنیا میں یہ خوباں کا اسم
بے وفائی کا ملقب نہ ہوا تھا سو ہوا
ہم اپنے حال میں ماضی کی شان بُھول گئے
عطور بھول گئے،۔ پاندان بھول گئے
گلی میں بھولی ہوئی اک، کمان بھول گئے
رگوں میں کس کا لہو ہے، جوان بھول گئے
درخت پر یہ پرندوں نے کیوں سکوت کیا
یہ کیا ہوا؟ کہ مؤذن اذان بھول گئے
زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے
دل کسی کا دکھا نہیں سکتے
وہ یہاں تک جو آ نہیں سکتے
کیا مجھے بھی بلا نہیں سکتے
وعدہ بھی ہے تو ہے قیامت کا
جس کو ہم آزما نہیں سکتے