Saturday, 12 December 2015

موج ساحل سے ملو موج و ساحل سے ملو

گیت

موج و ساحل سے ملو
مہِ کامل سے ملو
سب سے مل آؤ تو اک بار مِرے دل سے ملو

دلِ برباد نے کیا ٹوٹ کے چاہا ہے تمہیں
کس قدر پیار سے مرمر سے تراشا ہے تمہیں
جب سے دیکھا ہے اسی شوق سے دیکھا ہے تمہیں
سر جھکایا ہے، خدا مانا ہے، پوجا ہے تمہیں
رنگ و عشرت سے ملو
عیش و راحت سے ملو
نور و نکہت سے ملو
سب سے فرصت سے ملو
سب سے مل آؤ تو اک بار مِرے دل سے ملو
موج و ساحل سے ملو
مہِ کامل سے ملو

تم مِرے ہونٹوں پہ رہتی ہو دعاؤں کی طرح
کتنی معصوم ہو تم میری وفاؤں کی طرح
دور ہی دور ہو جنگل کی ہواؤں کی طرح
تم چلی آؤ جو بھرپور گھٹاؤں کی طرح
سبزہ زاروں سے ملو
نو بہاروں سے ملو
شوخ دھاروں سے ملو
تم ہزاروں سے ملو
سب سے مل آؤ تو اک بار مِرے دل سے ملو
موج و ساحل سے ملو
مہِ کامل سے ملو

موجِ مے تم سے چھلکنے کی ادا مانگے ہے
حسن گلشن سے جھلکنے کی ادا مانگے ہے
پھول گلشن میں مہکنے کی ادا مانگے ہے
درد کا چاند چمکنے کی ادا مانگے ہے
صبح سے شب سے ملو
پیار سے ڈھب سے ملو
ناز سے چھب سے ملو
شوق سے سب سے ملو
سب سے مل آؤ تو اک بار مِرے دل سے ملو
موج و ساحل سے ملو
مہِ کامل سے ملو

کیا کہوں دہر میں مجھ سا نہیں تنہا کوئی
تم پہ ظاہر ہے، کہ تم سے نہیں پردہ کوئی
تم نہ آؤ، تو نہیں میرا سہارا کوئی
آؤ اک بار کرو شاذ سے وعدہ کوئی
شبِ رعنا سے ملو
صبحِ فردا سے ملو
کیفِ صہبا سے ملو
ایک دنیا سے ملو
سب سے مل آؤ تو اک بار مِرے دل سے ملو
موج و ساحل سے ملو
مہِ کامل سے ملو

شاذ تمکنت



گیت کا مطلع گائک نے 'موجِ ساحل سے ملو' گایا ہے جبکہ اصل مطلع 'موج و ساحل سے ملو' ہے۔

2 comments:

  1. اردو زبان کے جمال کی تجلیات سمیٹے ہوئے ہے ������شاذ���� تمکنت صاحب���� کا یہ کلام آب حیات سے سیراب اپنے اندر ہر زمانے میں اپنی پوری تابندگی و اثر آفرینی لیئے اثر پذیر رہے گا
    یہی ہماری زبان اردو کی عظمت ہے کہ جس خیال کو اپنی آغوش میں پروان چڑھایا اسے امر کردیا


    �� ✨ ��

    ReplyDelete
  2. اسلام علیکم
    شاذ تمکنت
    صاحب کا یہ کلام اردو زبان کے جمال کی تجلیات سمیٹے ہوئے ہے یہ آب حیات سے سیراب اپنے اندر ہر زمانے میں اپنی پوری تابندگی و اثر آفرینی لیئے اثر پذیر رہے گا اور یہی ہماری زبان اردو کی عظمت ہے کہ جس خیال کو اپنی آغوش میں پروان چڑھایا اسے امر کردیا

    ReplyDelete