Friday, 26 March 2021

تیرا میرا ساتھ ابھی تو باقی ہے

 تیرا میرا ساتھ ابھی تو باقی ہے

اشکوں کی برسات ابھی تو باقی ہے

سب سے فرصت پالو تو پھر آؤں میں

اپنی بھی خیرات ابھی تو باقی ہے

کیسے کہوں کہ میں دنیا میں تنہا ہوں

سر پر ماں کا ہاتھ ابھی تو باقی ہے

غم نہ کرو تم دن ہی فقط یہ گزرا ہے

اپنی ہے جو رات ابھی تو باقی ہے

میں نے اب تک صرف غموں کو جھیلا ہے

خوشیوں کی سوغات ابھی تو باقی ہے


نازش اثری

No comments:

Post a Comment