کوئی چٹان نہ جیتے گی ایسے پتھر سے
تمہارا قلب تو برتر ہے سنگِ مر مر سے
پڑی رہے گی مسیحائی تیری زنگ آلود
تِرا مریض لگا ہی رہے گا بستر سے
تجھے اسیر بنا کر ہی دم بھریں گے ہم
اناج اگا کے رہے گے زمینِ بنجر سے
وہ شخص اپنی مہک چھوڑ کر گیا ہے یہاں
ہم اس کے بعد نکلتے ہیں کم سے کم گھر سے
انہیں بساط سے بڑھ کر ہی چاہا جائے گا
ہمیشہ جام چھلکتا رہے گا ساغر سے
ہر ایک موج منانے کو دوڑتی آئی
کنارہ روٹھ کے بیٹھا تھا جب سمندر سے
ہمیں جو ایک زمانے کو دھول کہتے ہیں
کسی کے سامنے لگتے ہیں کتنے کم تر سے
ہیں آج چہرے اداس، آج سوگوار فضا
یہ دن نکال ہی دیجے شفق کیلنڈر سے
عائشہ شفق
No comments:
Post a Comment