Monday, 1 March 2021

یہ تاج سارے یہ تخت سارے

 یہ تاج سارے، یہ تخت سارے

ملیں گے مٹی میں بخت سارے

گرے گی دیوار بھی کسی دن

کٹیں گے آخر درخت سارے 

یہاں کوئی بھی نہیں رہے گا 

یہ پر خشونت، کرخت سارے

یہ جتنے ہیں پیار کرنے والے 

یہ جتنے ہیں دل کے سخت سارے

یہاں سے جانا ہے سب کو اک دن

یہاں سے باندھیں گے رخت سارے


ضیا الحسن

No comments:

Post a Comment