پرچم اٹھا کے عشق کا خلقت میں آ گئے
صحرا مزاج لوگ تھے وحشت میں آ گئے
شب تھی، مگر جوان تھے بیدار دیر تک
چوروں سے بھُول ہو گئی عُجلت میں آ گئے
کچھ جھُوٹ اُڑ رہے تھے بہت آسمان پر
حقا کہ دامِ پنجۂ قُدرت میں آ گئے
ہم خُوش خرام آئے ہیں مقتل میں ناز سے
باقی یہ بد حواس تو سنگت میں آ گئے
توقیر گیلانی
No comments:
Post a Comment