میں سوچتا تھا کہ کہنا بھلا دیا اس نے
کواڑ کھول کے پردہ اٹھا دیا اس نے
جو سوچتے تھے کہ بالغ نظر کہاں ہے کوئی
وہ ہاتھ ملتے ہیں کیسا دلا دیا اس نے
کہانیوں سے کشیدہ ملال کی قرأت
اور اس کے بعد لطیفہ سنا دیا اس نے
وہ بے جہت جو مِری خوابگاہ تک پہنچی
تو میری نیند میں رخنہ بنا دیا اس نے
ڈراپ سین سے پہلے جگا دیا جاناں
مِرے گماں کا تلذذ اٹھا دیا اس نے
عقیل عباس
No comments:
Post a Comment