حوصلہ وہ کہاں سے لاتے ہیں
پیڑ پتوں کو جب گِراتے ہیں
فرق پڑتا نہیں کسی کو یہاں
شور ایسے ہی ہم مچاتے ہیں
یہ تو تکمیل کی نشانی ہے
موت یوں ہی نہیں بُلاتے ہیں
وہ ہمیں دیکھتا ہی رہتا ہے
اس لیے جان ہم چھُڑاتے ہیں
دیکھ توحید بزدلی کی حد
سائے پر گولیاں چلاتے ہیں
توحید زیب
No comments:
Post a Comment