خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے
دنیا سے مل کے دیکھ لے اپنے حساب سے
پی لوں ذرا سی آگ تخیل انڈیل کر
کچھ دھوپ چھاننا ہے غزل کے نقاب سے
خوشبو نے تیری رنگ کثافت اڑا دیا
راحت ملی ہوا کو ذرا اس عذاب سے
دل توڑنے کا کھیل نہیں تم پہ ہی تمام
ہم بھی چکائیں گے یہ ادھاری حساب سے
انساں سے دور نو نے مروت بھی چھین لی
بارش نے سر ورق بھی اتارا کتاب سے
دل کا شجر ہرا تھا تو پت جھڑ کا غم نہ تھا
اجڑا ہے دل تو کون بچائے عذاب سے
فاروق انجم
No comments:
Post a Comment