Tuesday, 1 February 2022

خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے

 خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے

دنیا سے مل کے دیکھ لے اپنے حساب سے

پی لوں ذرا سی آگ تخیل انڈیل کر

کچھ دھوپ چھاننا ہے غزل کے نقاب سے

خوشبو نے تیری رنگ کثافت اڑا دیا

راحت ملی ہوا کو ذرا اس عذاب سے

دل توڑنے کا کھیل نہیں تم پہ ہی تمام

ہم بھی چکائیں گے یہ ادھاری حساب سے

انساں سے دور نو نے مروت بھی چھین لی

بارش نے سر ورق بھی اتارا کتاب سے

دل کا شجر ہرا تھا تو پت جھڑ کا غم نہ تھا

اجڑا ہے دل تو کون بچائے عذاب سے


فاروق انجم

No comments:

Post a Comment