یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں
مواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھیں
غنیمِ شہر کو وہ تھا بصارتوں کا جنوں
کہ جب بھی لوٹ کے لایا تمام آنکھیں تھیں
خطوطِ نور سے ہر حاشیہ مزین تھا
کتابِ نور میں سارا کلام آنکھیں تھیں
اب آگئے ہیں یہ چہروں کے زخم بھرنے کو
کہاں گئے تھے مناظر جو عام آنکھیں تھیں
وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا
ہر ایک شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھیں
نظر فروز تھا یوسف کا پیرہن شاید
دیارِ مصر سے پہلا سلام آنکھیں تھیں
کسی کا عکس بھی دیکھا تو رو پڑیں یکدم
قسم خدا کی بہت تشنہ کام آنکھیں تھیں
طارق نعیم
آنکھ سے آسمان جاتا ہے
محترم طارق نعیم بھائی، سہو کی معافی چاہتا ہوں، نام کی درستگی کر دی گئی ہے۔ امید ہے آپ اسی طرح رہنمائی فرماتے رہیں گے، شکریہ
یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں
ReplyDeleteمواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھیں
یہ غزل میری ہے ن م راشد کی بالکل نہیں اور میرے شعری کلیات آنکھ سے آسمان جاتا ہے میں موجود ہے۔طارق نعیم
بہت شکریہ سلامت رہیں
ReplyDelete