Wednesday, 20 May 2020

یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں

 یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں

مواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھیں

غنیمِ شہر کو وہ تھا بصارتوں کا جنوں

کہ جب بھی لوٹ کے لایا تمام آنکھیں تھیں

خطوطِ نور سے ہر حاشیہ مزین تھا

کتابِ نور میں سارا کلام آنکھیں تھیں

اب آگئے ہیں یہ چہروں کے زخم بھرنے کو

کہاں گئے تھے مناظر جو عام آنکھیں تھیں

وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا

ہر ایک شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھیں

نظر فروز تھا یوسف کا پیرہن شاید

دیارِ مصر سے پہلا سلام آنکھیں تھیں

کسی کا عکس بھی دیکھا تو رو پڑیں یکدم

قسم خدا کی بہت تشنہ کام آنکھیں تھیں


طارق نعیم


آنکھ سے آسمان جاتا ہے

محترم طارق نعیم بھائی، سہو کی معافی چاہتا ہوں، نام کی درستگی کر دی گئی ہے۔ امید ہے آپ اسی طرح رہنمائی فرماتے رہیں گے، شکریہ

2 comments: